حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کو عام طور پر دنیا کی توانائی کی ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز صرف توانائی ہی نہیں بلکہ خوراک، کھاد اور زرعی پیداوار کے لیے ضروری خام مال کی ترسیل کا بھی ایک بڑا راستہ ہے۔ اگر یہاں آمدورفت متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی منڈیوں، اجناس کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، انشورنس ریٹس اور دور دراز ممالک میں خوراک کی دستیابی تک پہنچتے ہیں۔

حالیہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح مائع قدرتی گیس (LNG) کی کمی کا خدشہ ایشیائی ممالک پر منڈلا رہا ہے، جو خلیج فارس سے زیادہ تر LNG درآمد کرتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بنگلہ دیش میں کھاد بنانے والے کارخانے بند ہونے لگے ہیں جبکہ بھارت اور جاپان متبادل کے طور پر کوئلے کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے زرعی ممالک جیسے امریکہ، بھارت، برازیل اور آسٹریلیا درآمدی کھاد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ حتیٰ کہ چین، جو گندم کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے، وہاں بھی مہنگائی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو جارحیت کرنے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے اس اہم گزرگاہ کے استعمال کی اجازت برقرار ہے۔









آپ کا تبصرہ